Skip Navigation

National Geographic Society This program is distributed in the U.S. and Canada by National Geographic and EHD. [learn more]

Multilingual Illustrated DVD [Tutorial]

The Biology of Prenatal Development




ماقبل ولادت نشونماکا حیاتاتی عمل

.اردو [Urdu]


 
Download English PDF  Download Spanish PDF  Download French PDF  What is PDF?
 

Chapter 1   Introduction

‏وہ نامیاتی عمل جس سے ایک خلیے والا انسانی جفتہ ‏1000 - کھرب خلیوں والابالغ بن جاتا ہے شاید ‏قدرت کا سب سے بڑاکرشمہ ہے۔

‏اب محققین جانتے ہیں کہ بالغ جسم کے ذریعہ انجام ‏پذیرمعمول کے بہت سے افعال ‏کا تعین اکثر پیدائش سے بہت پہلے ‏حمل کےدوران ہوتا ہے۔

‏پیدائش سے قبل کا ارتقائی وقفہ ‏بلحاظ صعود تیاری کا وقفہ سمجھاجاتا ہے ‏جس کے دوران نموپذیر انسان ‏کئی صورتیں اختیار کرتا ہے، ‏اور بہت سے ہنر کی مشق کرتا ہے، جو ‏پیدائس کے بعد بقا کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔

Chapter 2   Terminology

‏انسانوں میں حمل کا دورانیہ عموما 38 ہفتوں ‏کا ہوتا ہےجس کی پیمائش باروری، ‏یا استقرارحمل کے وقت سے، ولادت تک ہوتی ہے۔

‏باروری کے پہلے 8 ہفتوں کے دوران، ‏نموپذیر انسان مضغہ کہلاتا ہے، ‏یعنی "نموکے عمل سے گذر رہا ہونا"۔ ‏یہ وقت، دور مضغہ کہلااتا ہے، ‏جوزیادہ تر جسمانی نظاموں کی ‏تشکیل کا ایک مرحلہ ہے۔

‏8 ہفتے سے وضع حمل تک، ‏"نموپذیرانسان جنین کہلاتا ہے۔" ‏یعنی "نازائیدہ بچہ۔" ‏اس وقت کے دوران، جسے جنینی دورکہا جاتا ہے، ‏جسم بڑھ جاتا ہے اور اس کے نظام کام کرنے لگتے ہیں۔

‏اس پروگرام میں مضغہ اور جنین کی عمروں ‏کا تعین باروری کے وقت سے ہوا ہے۔

The Embryonic Period (The First 8 Weeks)

Embryonic Development: The First 4 Weeks

Chapter 3   Fertilization

‏حیاتاتی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ، ‏"انسانی نموکا آغاز باروری سے ہوتا ہے،" ‏جب ایک عورت اور ایک مرد ‏دونوںاپنے 23 لونیوں کو ‏ تولیدی خلیوں کے ذریعہ یکجا کرتے ہیں۔

‏عورت کے تولیدی خلیے کو عموما "بیضہ" کہا جاتا ہے ‏لیکن درست اصطلاح "مبیضی انڈا" ہے۔

‏اسی طرح، مرد کا تولیدی خلیہ ‏عام طور پر "منی" کہلاتا ہے ‏ لیکن ترجیحی اصطلاح جرثومہ منی ہے

‏عورت کے رحم سے مبیضی انڈے کے اخراج کے بعد ‏عمل تبویض کہلانے والے عمل کے ذریعہ، ‏مبیضی انڈا اور جرثومہ منی آپس میں ‏رحم کی نالیوں میں سے ایک میں ملتے ہیں، ‏جسے اکثر فیلوپی نالی کہا جاتا ہے۔

‏رحم کی نالیاں عورت کے بیضہ دانی کو ‏اس کے رحم یا بچہ دانی سے جوڑتی ہیں۔

‏اس کے نتیجے میں بنا ایک ۔ خلیہ مضغہ جفتہ کہلاتا ہے، ‏یعنی "جوڑا یا باہم ملا ہوا۔"

Chapter 4   DNA, Cell Division, and Early Pregnancy Factor (EPF)

‏جفتے کے 46 لونیے ‏اس مخصوص اولین اشاعت کوپیش کرتے ہیں ‏جو نئے فرد کا مکمل بنیادی جنیناتی خاکہ ہوتا ہے۔ ‏یہ ماسٹر پلان سختی سے لپٹے ہوئے سالموں کے ‏اندرہوتا ہے جسے ڈی این اے کہتے ہیں۔ ‏یہ پورے جسم کی نشونما سے متعلق ‏ہدایات پر مشتمل ہوتا ہے

‏ڈی این اے سالمے لپٹی ہوئی سیڑھی کے مانند ہوتے ہیں ‏جسے دوہری کنڈلی کہا جاتا ہے۔ ‏سیڑھی کے زینے جفتی سالموں، ‏یا بنیادوں سے بنے ہوتے ہیں، جنہیں گوانین، ‏سائٹوسین، ایڈینین اور تھائیمین کہتے ہیں۔

‏گوانین صرف سائٹوسین کے ساتھ، ‏اورایڈ ینین تھا ئیمن کے ساتھ ہی جوڑا بناتا ہے۔ ‏ہر انسانی خلیے میں لگ بھگ ایسے 3 ارب ‏بنیادی جوڑے ہوتے ہیں۔

‏واحد خلیے کے ڈی این اے میں اتنی معلومات ‏ہوتی ہے کہ اگر انہیں حرفوں میں اس طرح ‏پیش کیا جائے کہ ہر اساس کا صرف پہلا لفظ ‏لکھا جائے تو 15 ارب صفحات درکار ہوں گے!

‏اگر اسے سرے سے آخر تک ملایا جائے تو، ‏واحد انسانی خلیے میں ڈی این اے کی پیمائش ⅓3 فٹ ‏یا 1 میٹر ہوگی۔

‏اگرہم ان تمام ڈی این اے کی کنڈ لی کھول دیں ‏جو بالغ فرد کے 1000 کھرب خلیوں میں موجود ہیں، ‏تو یہ 63 ارب میل تک پھیل جائے گا۔ ‏یہ دوری زمین سے سورج اور پھر واپس زمین تک کی دوری کا ‏340 گنا ہوگی۔

‏باروری کے لگ بھگ 24 سے 30 گھنٹوں بعد، ‏جفتہ پہلی بار اپنے خلیے کی تقسیم کا عمل پورا کرتا ہے۔ ‏خیطیت کے عمل کے ذریعہ، ‏ایک خلیہ دو میں، دو چار میں، اور اسی طرح تقسیم ہوتا ہے۔

‏باروری کے آغاز کے 24 سے 48 گھنٹے بعد ‏پہلے پہل ایک ہارمون کی شناخت کے ذریعہ حمل کی تصدیق کی جاسکتی ہے ‏جسے ماں کے خون میں موجود "ابتدائی حمل کا عامل" کہتے ہیں۔

Chapter 5   Early Stages (Morula and Blastocyst) and Stem Cells

‏باروری کے 3 سے 4 دن بعد، ‏مضغہ کے تقسیم ہونے والے خلیے گول شکل اختیار کرلیتے ہیں ‏اور مضغہ کو توتہ کہاجاتا ہے۔

‏4 سے 5 دنوں میں خلیوں کے اس گیند پر ایک جھلی بن جاتی ہے ‏اور تب مضغہ بروزیہ کہلاتا ہے۔

‏بروزیہ کے اندر کے خلیے کو ‏خلیے کی اندرونی کمیت کہتے ہیں ‏اور یہ سر، جسم اوردیگرسانچوں کوابھارتا ہے ‏جو نموپذیرانسان کے لازمی عضو ہیں۔

‏خلیے کی اندرونی کمیت میں موجود خلیے ‏نہوزی ساق کےخلیے کہلاتے ہیں کیونکہ ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہےکہ ‏ہرایک 200 سے زیادہ قسم کے خلیے بناسکتا ہے ‏جس پر انسانی جسم مشتمل ہوتا ہے۔

Chapter 6   1 to 1½ Weeks: Implantation and Human Chorionic Gonadotropin (hCG)

‏رحم کی نالی سے نیچے آنے کے بعد، ‏ابتدائی مضغہ ماں کے رحم کی ‏اندرونی دیوار سے چپک جاتا ہے۔ ‏یہ عمل، تنصیب کہلاتا ہے، جو باروری کے 6 دن بعد ‏شروع ہوتا ہے اور 10 سے 12 دن میں پورا ہوتا ہے۔

‏نموپذیر مضغہ کے خلیے ایک ہارمون پیدا کرنے لگتے ہیں ‏جسے انسانی کوریونک گوینڈوٹروپین، یا ایچ سی جی کہتے ہیں، ‏جو وہ مادہ ہے جس کی حمل کے زیادہ تر جانچوں میں شناخت ہوتی ہے۔

‏ایچ سی جی مادری ہارمونز کو ہدایت دیتا ہے کہ ‏وہ حیض کے عمومی دور کو روک دے، ‏تاکہ حمل برقرار رہ سکے۔

Chapter 7   The Placenta and Umbilical Cord

‏تنصیب کے بعد، ‏بروزیلے کے محور پر موجود خلیے ‏ایک ڈھانچے کے حصوں کو ابھارتے ہیں جسے آنول کہتے ہیں، ‏جو مادری اور نہوضی نظام کے ‏درمیان آپسی رابطے کا کام کرتا ہے۔

‏آنول ماں سے نموپذیرانسان کو آکسیجن، تغذیہ، ‏ہارمونز، دوائیں فراہم کرتا ہے؛ ‏تمام فضلوں کو خارج کرتا ہے؛ ‏اور ماں کے خون کو ‏مضغہ اور جنین کے خون میں ملنےسے محفوظ رکھتا ہے۔

‏آنول ہارمونز بھی پیدا کرتا ہے ‏اورمضغہ اور جنین کے درجہ حرارت کو معتدل اور ‏ماں کے درجہ حرارت سے تھوڑا اوپر رکھتا ہے۔

‏آنول نموپذیر انسان کے ساتھ ‏نال کے شریانوں کے ذریعہ ترسیل کا کام انجام دیتا ہے۔

‏زندگی کو برقرار رکھنے کے معاملے میں آنول کی صلاحیت ‏جدید اسپتالوں کے کامل توجہ والی نگہداشت کی اکائی کے مقابل ہے۔

Chapter 8   Nutrition and Protection

‏1 ہفتے تک ‏خلیے کی اندرونی کمیت میں موجود خلیے ‏دو جھلیاں بناتے ہیں جنہیں ‏زیرنہوضی ‏اور برنہوض کہتے ہیں۔

‏زیر نہوضی خلیے ‏کیسہ زردہ کا فروغ کرتےہیں، ‏جو ایک ایسی بناوٹ ہے جس کے ذریعہ ‏ماں ابتدائی مضغہ کو ‏تغذیہ فراہم کرتی ہے۔

‏برنہوضی خلیے ایک ‏جھلی بناتے ہیں جسے غلاف جنین کہتے ہیں، ‏جس میں مضغہ ‏اور پھر جنین ‏پیدائش کے وقت پرورش پاتے ہیں۔

Chapter 9   2 to 4 Weeks: Germ Layers and Organ Formation

‏لگ بھگ½2 ہفتوں میں ‏برنہوض خلیہ ‏3 خصوصی نسیج، ‏یا ابتدائی جنین کی جھلی بناتا ہے، ‏جسے بروں ا دمہ، ‏دروں ادمہ، ‏اور میان ادمہ کہتے ہیں۔

‏بروں ادمہ ‏کثیر خلیوں والے اعضاء ‏بشمول دماغ، ‏حرام مغز، ‏اعصاب، ‏جلد، ‏ناخن، ‏اور بال بناتے ہیں۔

‏درون ادمہ نظام تنفس ‏اور اعضائے ہاظمہ کا اندرونی حصے کی تشکیل کرتا ہے ‏اور بڑے اعضاء کے حصے بناتا ہے ‏جیسے جگر ‏اور لبلبہ ۔

‏میان ادمہ دل، ‏گردے، ‏ہڈیاں، ‏مرمری ہڈیاں، ‏پٹھے، ‏خون کے خلیے، ‏اوردیگر اعضا بناتا ہے۔

‏3 ہفتےبعد ‏دماغ 3 ابتدائی حصوں میں تقسیم ہونےلگتا ہے ‏جسے پیش دماغ، ‏بین دماغ، ‏اور بعد دماغ کہتے ہیں۔

‏تنفس اور ہاظمے کے نظاموں کی نشونما ‏بھی جاری رہتی ہے۔

‏جب خون کا پہلا خلیہ ‏کیسئہ زردہ میں ظاہر ہوتا ہےتو، ‏پورے مضغہ میں ‏شریانیں بننے لگتی ہیں، ‏اور نلی نما دل وجود میں آتا ہے۔

‏اکثر فورا ہی، ‏تیزی سے نموپذیر دل ‏خود بخود مڑنے لگتا ہے ‏جس سے علیحدہ خانے ‏بننے شروع ہوجاتے ہیں۔

‏دل کی دھڑکن کا آغاز ‏باروری کے3 ہفتے اور ایک دن ‏بعد ہوتا ہے۔

‏دورانی نظام جسم کا ایسا اولین نظام، ‏یا متعلقہ اعضاء کا ایک ایسا گروپ ہے ‏جو فعال حالت تک رسائی کے لئے ہے۔

Chapter 10   3 to 4 Weeks: The Folding of the Embryo

‏3 اور 4 ہفتوں کے دوران، ‏جسم کا سانچہ تیار ہونے لگتا ہے ‏کیونکہ دماغ، ‏حرام مغز، ‏اور مضغہ کے دل کی ‏بہ آسانی شناخت ہوتی ہے ‏جو کیسئہ زردہ کے قریب ہوتا ہے۔

‏تیز نمو سے نسبتا مسطح مضغےمیں ‏خم پیدا ہوتا ہے۔ ‏یہ عمل ‏کیسئہ زردہ کے حصے کو ‏نظام ہاظمہ کے ‏اندرونی حصے سے جوڑتا ہے ‏اور نموپذیر انسان کے سینے ‏اور جوف شکم ‏کی تشکیل کرتا ہے۔

Embryonic Development: 4 to 6 Weeks

Chapter 11   4 Weeks: Amniotic Fluid

‏4 ہفتے بعد ‏مضغہ کے گرد شفاف غلاف بنتا ہے ‏جس کے جوف میں مائع بھرا ہوتا ہے۔ ‏یہ عقیم مائع، ‏جنینی مائع کہلاتا ہے، ‏جو مضغہ کو صدمات سے بچاتا ہے۔

Chapter 12   The Heart in Action

‏دل ایک منٹ میں 113 بار دھڑکتا ہے۔

‏دھیان دیں کہ اس وقت دل کس طرح رنگ بدلتا ہے ‏جب ہر دھڑکن پر خون خانوں میں داخل اورخارج ہوتا ہے۔

‏دل پیدائش سے قبل لگ بھگ ‏ 54کروڑ بار دھڑکے گا ‏اور اس کی تعداد 3.2 ارب گنا سے زیادہ ہوگی ‏اگر دور حیات 80 سال کا ہوگا۔

Chapter 13   Brain Growth

‏دماغ کے تیز رفتار نمو کا اندازہ ‏پیش دماغ، ‏بین دماغ، ‏اور بعد دماغ کی موجودگی میں واقع تبدیلی سے ہوتا ہے۔

Chapter 14   Limb Buds

‏اوپری اور ذیلی اعضاء کے نمو کا آغاز ‏4 ہفتوں بعد اعضاء کی کلی نکلنے سے ہوتا ہے۔

‏اس وقت جلد شفاف ہوتی ہے ‏کیونکہ اس کی موٹائی میں صرف ایک خلیہ ہوتا ہے۔

‏جلد کی موٹائی بڑھنے کے ساتھ، ‏اس کی شفافیت ختم ہوتی جائے گی، ‏یعنی ہم اندرونی اعضا کے نمو کو ‏دوسرے ماہ تک ہی دیکھ سکیں گے۔


Add a Comment

Your Name: Log In 3rd-party login: Facebook     Google     Yahoo

Comment: